ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی میں ڈینگواور چکن گنیا کے لیے ریزرو بیڈز بڑھانے کا حکم، کورونا کے علاج کے لیے ریزرو بیڈ استعمال ہوں گے

دہلی میں ڈینگواور چکن گنیا کے لیے ریزرو بیڈز بڑھانے کا حکم، کورونا کے علاج کے لیے ریزرو بیڈ استعمال ہوں گے

Sat, 30 Oct 2021 21:20:38    S.O. News Service

نئی دہلی،30/اکتوبر(آئی این ایس انڈیا) دہلی کے اروند کیجریوال حکومت کے اسپتالوں میں کورونا کے لیے ریزرو بستروں کا ایک تہائی حصہ ڈینگو، ملیریا اور چکن گنیا کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ دہلی میں ڈینگو، ملیریا اور چکن گنیا کے بڑھتے ہوئے معاملات کو دیکھتے ہوئے دہلی حکومت کے محکمہ صحت نے یہ حکم جاری کیا ہے۔ اس سے قبل 18 اکتوبر کو کورونا کے لیے ریزرو بیڈز کی تعداد کم کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ لوک نائک اسپتال (ایل این جے پی) میں کورونا کے لیے ریزرو 700 بستروں کی تعداد کم کر کے 450 کر دی گئی تھی۔ جبکہ راجیو گاندھی سپر اسپیشلٹی اسپتال میں کورونا کے لیے مختص 600 بستروں کی تعداد گھٹ کر 350 ہوگئی۔ پرائیویٹ اسپتالوں اور نرسنگ ہوم کو بھی یہ حکم دیا گیا تھا کہ جن کی گنجائش 100 بستروں یا اس سے زیادہ ہے وہ اپنے بستروں کی کل گنجائش کے 30 فیصد کے بجائے صرف 10 فیصد بستر ہی کورونا کے لیے مختص کر سکتے ہیں لیکن نئے حکم نامے کے مطابق اب اس وقت ڈینگیوملیریا اور چکن گنیا کا علاج ایک تہائی کورونا بستروں پر کیا جا سکتا ہے۔کووڈ کی وبا کے بعد اب ڈینگو کے ’ڈنک‘ نے دہلی-این سی آر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ڈینگو کے حوالے سے صورتحال دو سال پہلے جیسی نظر آرہی ہے۔ 2019 میں ملک میں ڈینگو کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ 2019 میں اکتوبر تک ملک میں ڈینگو کے 1.14 لاکھ کیس رپورٹ ہوئے۔ اس سال اب تک 85 ہزار کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اتر پردیش (یو پی) میں اب تک ڈینگو کے سب سے زیادہ کیس درج ہوئے ہیں۔ یوپی میں تقریباً 13 ہزار کیسز سامنے آئے ہیں۔مہاراشٹر اور پنجاب میں تقریباً 9-9 ہزار کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ راجستھان اور گجرات میں ڈینگو کے تقریباً 6-6 ہزار، ہریانہ میں تقریباً 2 ہزار اور دہلی میں 1200 سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔اس سال اب تک ملک میں ڈینگوسے 49 مریضوں کی موت ہو چکی ہے۔ مہاراشٹر میں سب سے زیادہ 22 اموات ہوئیں، 13 راجستھان میں اور 7 یوپی میں۔


Share: